Sun. May 9th, 2021

The RealKashmir News

"The Voice of Voiceless"

Aqeedat | اسلام میں نماز کی مختلف حالتوں میں ادائیگی

1 min read
Share this
31 Jan 2021

اسلام میں نماز مختلف حالتوں میں مختلف صورت میں فرض کی گئی ہے ۔ امن کی نماز ، سفر کی نماز، بے ہوشی کی نماز،حالت جنگ اورخوف کی حالت میں نماز کی ادائیگی مختلف ہے ۔قرآن مجید میں ان سب حالتوں کا ذکرموجود ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے نمازمسلمانوں پر وقت مکررہ پر فرض کی گئی ہے ۔ اس کا مطلب ہے کہ فرض نماز کو عین وقت پر پڑھنا ضروری ہے بغیر کسی شرعی مجبوری کے دیر سے پڑھنا درست نہیں اس لئے جب نماز کا وقت ہو جائے تو نماز پڑھی جائے خواہ حالت امن میں ہو، سفر میں ہو ، حالت جنگ میں ہویا حالت خوف میں ہو۔

اس کے لئے اسلام نے نماز کی مختلف حالتوں میں ادا کر نے کی ترتیب بتا دی ہے ۔
امن کی صورت میں نماز تمام قواعدضوابط کے سا تھ فرض کی گئی ہے اس میں وقت کی پابندی، اپنے آپ کو نماز کے لئے تیار کرنا ( اس میں بدن کو صاف کرنا یعنی وضو کرنا اگر غسل فرض ہے تو غسل کر نا صاف ستھرا لباس زیب تن کر نا جسے پہن کر کسی مجلس میں جایا جا سکے )، قبلہ رخ ہو نا ، مکمل قیام، ورکوع و سجود کر نا، مردوں کے لئے مسجد میں جا کر نماز ادا کر نا ،صفیں سیدھی رکھنا، ملکر کھڑے ہونا ، امام کی پیروی کرنا، عورتوں کے لئے گھر میں نماز پڑھنا واجب قرار دیا گیا ہے ۔

سفر کی حالت میں نماز:

سفر شروع کر نے لئے کوشش ہونی چاہیے کہ وضو کریں اور دو رکعات نماز نفل ادا کریں اور اللہ تعالیٰ سے سفر میں آسانیوں کے لئے دعا کریں اور جب واپس آئیں یعنی سفر مکمل کر لیں تو سب سے پہلے گھر میں داخل ہو کر دو رکعات نماز ادا کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں ۔ سفر کی حالت میں نماز میں تخفیف کا حکم ہے جسے کسر کر نا کہتے ہیں اس میں صرف رکعتیں ہی کسر نہیں ہوتیں بلکہ اور بھی بہت کچھ کم ہو جا تا ہے ۔
سفر کی دو حالتیں ہو تیں ہیں ایک سفر جا ری اس صورت میں جب کوئی سفر کر رہا ہے خواہ گاڑی میں ،کسی جانور پر یا پیدل، قافلے کی صورت میں یا اکیلا اس صورت میں نماز تو فرض ہو گی مگر اس کے لئے کپڑوں کا صاف ہونا بدن کا صاف ہو نا قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں( جتنا کچھ ہو سکے کر لے اور جو نہ ہو سکے اس کے لئے اپنے آپ کو پابند نہ کریں نماز قضاء نہ کریں اور نہ ہی ترک کریں) اس کے لئے قیام، رکوع و سجود کرنا بھی ضروری نہیں وہ اشاروں میں نماز اداکر سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کو اپنا بندہ اس حال میں بھی قبول ہے۔
دوسری صورت میں سفر قیام ہے اس حالت میں اس پر امن والے سب قواعدو ضوابط لاگو ہوں گے صرف نماز کی رکعات میں کسر ہو گی۔ کسر بھی صرف تین نمازوں ظہر کے فرضوں میں چار کی بجائے دو رکعات، عصر چار فرضوں کی بجائے دو رکعات فرض اور عشاء کے چار فرضوں کی بجائے دو رکعات فرض ادا کر نے ہوں گے عشاء کے وتر پورے یعنی تین ہی پڑھنے ہوں گے ۔

نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں حکم ہے کہ جب تم نشے میں ہو تو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ جب تک سمجھنے اور سننے کے قابل نہ ہو جاؤ۔ نشے کی حالتیں بھی مختلف ہو سکتیں ہیں نشہ شراب سے ہو تا ہے دوسری قسم میں بیماری کی حالت میں مریض کو نشہ دے کر بے ہوش کیا جا تا ہے تاکہ مریض تکلیف کی شدت کم ہو جائے ،مریض کے جسم کا آپریشن کر نے کے لئے بھی مریض کو نشہ دے کر بے ہوش کیا جاتا ہے ۔

کسی مرض کی وجہ سے بے ہوش ہو جا نا یا کومے میں جا نا ان سب حالتوں میں اس پر نماز کے قواعدوضوابط لا گو نہیں ہوتے ۔

حالت جنگ کی صورت میں نمازکی حالت مختلف ہو گی جیساکہ قرآن مجید امیں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ جب آپ ﷺ ان میں موجود ہوں اور دشمن کے حملے کا خطرہ ہو تو ایک جماعت آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کرے اوردوسری جماعت ہتھیار بند ہو کر دشمن کے ساتھ مقابلے کے لئے تیار رہے اور جب آپ ﷺ سجدہ کر چکیں تو پہلی جماعت پیچھے ہٹ جائے اور ہتھیار بند ہو کر دشمن کے ساتھ مقابلے کے لئے تیاررہے اور دوسری جماعت ہتھیار رکھ کر آپ کے ساتھ نماز میں شامل ہو جائے ۔

اور جب تم سے خوف یا جنگ دور ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کواٹھتے، بیٹھتے اور کروٹ ، کروٹ سوتے یاد کرو۔
یہ طریقہ آپ ﷺ کے دور میں اور اس کے بعد صحابہ کے دور میں بھی رائج رہا اور اسلامی فوج میں اب بھی رائج ہے ۔ اب بھی اگلے موچوں پر آدھے فوجی پہلے نماز ادا کر تے ہیں اور باقی آدھے بعد میں نماز ادا کر تے ہیں ۔
آپﷺ نے یہ نماز صلح حدیبہ کے موقع پر ادا فرمائی جب آپ ﷺ نماز ادا کر نے لگے اس وقت خالد بن ولید  جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے دو سو آدمیوں کا ایک دستہ لے کر چھپ کر حملہ کر نے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جب آپ ﷺ نے نماز کی نیت کر کے نماز کھڑی کر دی تو خالد بن ولید اپنے منصوبے کے مطابق آپﷺ پر حملے کے لئے نکلے اور جب آگے آئے تو دیکھا کہ آدھے مسلمان تو ہتھیاروں کے ساتھ دفاع کے لئے تیار کھڑے ہیں اس وقت خالد بن ولید مسلمان ہو گئے اور اس کے دو سوساتھی بھی مسلمان ہو گئے۔

نمازخوف:

خوف کی کئی صورتیں ہیں بیماری کا خوف جیسے دور حاضر میں کرونا کے خوف کی وجہ سے اپنی صفوں میں اور نمازیوں میں فاصلہ رکھنے کا کہا گیا ہے اور کچھ عمر کے نمازیوں کومسجدوں میں آنے سے استثناء دیا گیا ہے۔ ایسے ہی زلزلہ آنے کی صورت میں ، آندھی اور طوفان کی صورت میں مردوں کا نمازوقت مکررہ پرگھر میں ادا کر نا درست ہو جا ئے گا۔

Leave a Reply