Wed. May 5th, 2021

The RealKashmir News

"The Voice of Voiceless"

AQEEDAT | تکبر کا انجام ( The result of arrogance)

1 min read
Share this
27 Jan 2021

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن خطبہ میں برسر منبر فرمایا:لوگو!فروتنی اور خاکساری اختیار کرو‘کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:”جس نے اللہ کے لئے(یعنی اللہ کا حکم سمجھ کر اور اُس کی رضا حاصل کرنے کے لئے) خاکساری کارویہ اختیار کیا(اور بندگان خدا کے مقابلے میں اپنے آپ کو اونچا کرنے کے بجائے نیچا رکھنے کی کوشش کی)تو اللہ تعالیٰ اس کو بلند کرے گا‘جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ اپنے خیال اور اپنی نگاہ میں تو چھوٹا ہو گا‘لیکن عام بندگان خدا کی نگاہوں میں اونچا ہو گا۔
اور جو کوئی تکبر اور بڑائی کا رویہ اختیار کرے گا تو اللہ اس کو نیچا گرادے گا‘جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ عام لوگوں کی نگاہوں میں ذلیل وحقیر ہو جائے گا۔

وہ اپنے خیال میں تو بڑا ہو گا‘لیکن دوسروں کی نظر میں وہ کتے اور خنزیہ سے بھی زیادہ ذلیل اور بے وقعت ہو جائے گا۔“
انسان کا متکبرانہ رویہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں ‘بلکہ وہ عاجزی اور انکساری کو پسند کرتا ہے۔

تکبر انسان کو زیب ہی نہیں دیتا‘کیونکہ وہ تو طرح طرح کی کمزوریوں کا مجموعہ ہے ۔کم ظرف انسان کو جب اللہ تعالیٰ کسی دنیاوی نعمت سے نوازتا ہے تو اُس کے اندر تکبر پیدا ہو جاتا ہے‘جبکہ صالح انسان کو جوں جوں نعمتیں ملتی ہیں وہ تواضع اور انکساری اختیار کرتا چلا جاتا ہے اور منعم حقیقی کا شکر بجا لاتا ہے۔
تکبر اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اس کی شان کے لائق ہے ۔
صرف وہی متکبر ہے ۔اگر انسان تکبر کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے ۔جس نعمت پر بھی اس کو ناز ہوتا ہے وہ ناپائیدار ہوتی ہے ۔پھر عارضی اور وقتی خوبی پر اترانا تو ذرا بھی عقل مندی نہیں ۔تکبر اور کبریائی تو صرف ذات خداوندی کو ہی سزا وار ہے‘جو بے پایاں صفات کا مالک ہے اور اُس کی ہر صفت ذاتی اور پائیدار ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا جابجا تذکرہ ہے:
”اور اُسی کے لئے کبریائی اور بڑائی ہے آسمانوں اور زمین میں۔
اور وہ زبردست حکمت والا ہے۔“
سروری زیبا فقط اُس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اِک وہی باقی بتانِ آزری
انسان کو تو عاجزی ہی زیب دیتی ہے۔وہ تو ہر چیز کے لئے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے ۔صحت وتندرستی‘خوشحالی اور تونگری‘عزت وعظمت غرضیکہ انسان کو ملنے والی ہر خوبی اللہ ہی کا عطیہ ہے۔وہ جب چاہے اپنی نعمت واپس لے سکتا ہے۔
تجربہ شاہد ہے کہ بڑے بڑے تنو مند اور پہلوان آناً فاناً سوکھ کر تنکا ہو جاتے ہیں ۔عظمت کی بلندیوں کو چھونے والے چشم زدن میں بے وقعت ہو جاتے ہیں ۔دولت مند جس دولت پر اتراتے ہیں اسے جاتے ہوئے دیر نہیں لگتی ۔پھر ان نعمتوں پر تکبر کیسا؟اللہ تعالیٰ کے سامنے تو بندہ عاجز اور بے بس ہے ۔انسان کا عام طور پر بھی عاجزانہ رویہ ہی پسندیدہ ہے۔اس کا طرز عمل عام لوگوں کے ساتھ تواضع ا ور انکساری کا ہونا چاہیے۔
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جو شخص اللہ کی رضا کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عظمت اور شرف سے نوازتا ہے ‘جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بندہ جو اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے‘لوگوں کی نگاہوں میں وہ عظیم ہو جاتا ہے ۔لوگ اُس کی عزت وتوقیر کرتے اور اس کا احترام بجا لاتے ہیں ‘اس کی خوبیوں کا چرچا ہونے لگتا ہے اور وہ بندہ معاشرے میں ہر دلعزیز ہو جاتاہے۔

اس کے برعکس جو شخص متکبرانہ رویہ اپناتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو نیچے گرا دیتا ہے‘پھر اُس کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ تو خود کو بڑا سمجھ رہا ہوتا ہے مگر لوگوں کی نگاہوں میں وہ چھوٹا اور ذلیل ہو جاتا ہے‘یہاں تک کہ لوگ اسے کتے اور خنزیر سے بھی بدتر سمجھنے لگتے ہیں۔
متواضع شخص چونکہ دوسروں کو حقیر نہیں سمجھتا‘ہر ایک کو اچھا اور قابل احترام جانتا ہے‘لہٰذا اس شخص کو ہر آدمی آزادانہ مل سکتاہے‘وہ کسی کی پہنچ سے باہر نہیں ہوتا۔
اس کا ہر ملاقاتی اس سے مل کر خوش ہوتاہے‘کیونکہ وہ کسی کا دل نہیں دکھاتا اور کسی کو حقیر اور کمزور ہونے کا احساس نہیں دلاتا‘بلکہ اس کے سامنے خود کو چھوٹا ظاہر کرتاہے۔متواضع شخص کایہ رویہ اسے ہر دلعزیز بنا دیتا ہے ۔ایسا شخص کسی پر ظلم اور زیادتی نہیں کرتا۔ سب لوگ اُس سے امن میں ہوتے ہیں اور کوئی بھی اُس کی طرف سے کسی طرح کا خطرہ محسوس نہیں کرتا۔

اس کے برعکس متکبر آدمی خود کو بڑا سمجھتا ہے اور دوسروں کو اپنے سے کمتر اور حقیر جانتا ہے‘جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اُس سے نفرت کرتے ہیں‘اس کے ملاقاتی اُس سے ملتے وقت خوف زدہ ہوتے ہیں‘وہ اپنی بڑائی ثابت کرنے کے لئے لوگوں کے ساتھ ظلم وزیادتی کا رویہ روا رکھتا ہے۔ اپنے آپ کو نمایاں کرنے کے لئے اپنی تعریفیں کرتا‘ڈینگیں مارتا اور خوبیاں بیان کرتا ہے ۔
لوگ اس کی خودستائی کو پسند نہیں کرتے‘بلکہ اُس کے رعب وداب سے نفرت کرتے ہیں۔اگرچہ کچھ لوگ مصلحتاً اُس کی بڑائی کو اس کے سامنے تسلیم کر لیتے ہیں‘مگر حقیقت میں وہ اس سے بیزار ہی ہوتے ہیں ۔ایسے شخص کے لئے دوسروں کے دل میں کوئی وقعت نہیں ہوتی۔جیسا کہ حدیث کے الفاظ ہیں کہ ایسا آدمی خود کو دوسروں کے مقابلے میں بڑا سمجھ رہا ہوتا ہے‘مگر لوگوں کی نگاہوں میں اس کی کچھ عزت نہیں ہوتی‘یہاں تک کہ لوگ اس سے اس قدر نفرت کرتے ہیں کہ اسے کتے اور خنزیہ سے بھی بدتر سمجھتے ہیں۔

تکبرر ذائل اخلاق میں سے ایک بہت بڑی برائی ہے‘جبکہ تواضع وانکساری فضائل اخلاق میں سے ایک نمایاں صفت ہے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عظمت کی معراج پر ہونے کے باوجود انتہائی متواضع اور منکسر المزاج تھے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم سید ولد آدم تھے ‘مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پسند نہیں تھا کہ جب آپ داخل ہوں تو دوسرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اٹھ کر کھڑے ہو جائیں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں اس طرح گھل مل کر بیٹھتے کہ باہر سے آنے والا معلوم نہ کر سکتا کہ مجلس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں ۔ایک بار صحابہ رضی اللہ عنہ نے گزارش کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خصوصی نشست کا اہتمام کردیں‘مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت نہ دی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ انکاری اللہ کی رضا کے لئے تھی اور اللہ نے آپ کو مقام محمود تک بلند کیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی انسانوں کے لئے اُسوئہ حسنہ ہے۔چنانچہ افراد اُمت کے لئے بھی عاجزانہ اور انکساری کا رویہ ہی پسندیدہ ہے۔
سب سے پہلا متکبر ابلیس تھا جو تکبر کی وجہ سے ملعون ٹھہرا:
تکبر عزازیل را خوار کرد
بہ زندان لعنت گرفتار کرد
کسی شخص کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ابلیس کی پیروی کرتا ہوا تکبر کرے اور ذلت کی گہرائی میں گر جائے ۔
تکبر کی برائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بہت کافی ہیں:
”وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا“۔
معاشرے میں مالک اور نوکر ‘آقا وغلام ‘افسر اور ماتحت‘دینے والا اور سوالی اگرچہ دنیاوی مرتبے کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں‘مگر اولاد آدم ہونے کے اعتبار سے تو برابر ہیں۔
اس لئے مالک اپنے نوکر کو ‘آقا اپنے غلام کو اور افسر اپنے ماتحت کو حقیر نہ جانے اور نہ اس کو ذلیل اور رسوا سمجھے‘کیونکہ کیا معلوم کہ یہ چھوٹے اللہ تعالیٰ کے ہاں ان بڑوں سے زیادہ عزت والے ہوں۔
اللہ اور اس کے رسول کے حکموں کو نہ ماننا اور اس کے مقابلہ میں اپنے نفس کی خواہشات پر عمل کرنا سب سے بڑا تکبر ہے ۔ایسا کرنے سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ اللہ کے حکم کو کمتر اور اپنی خواہش نفس کو برتر سمجھا جا رہا ہے اور یہ بدترین ظلم ہے۔

Leave a Reply