Wed. Feb 24th, 2021

The RealKashmir News

"The Voice of Voiceless"

AQEEDAT: A message in the name of Humanity on auspicious occasion of Eid-ul-Fitr..

1 min read
Share this
by Mir Osama

Srinagar, 23 May 2020

عیدالفطر کے موقعہ پر انسانیت کے نام پیغام 

عید کے معنی خوشی کے ہیں۔یہ خوشی کا تہوار ہے جو مسلمان مناتے ہیں- عید الفطر ہمارا بہت ہی خاص تہوار ہے جسے پوری دنیا کے مسلمان رمضان المبارک کا مہینہ اختتام  ہونے پر مناتے ہیں۔ مسلمان رمضان المبارک کے انتیس یا تیس روزے رکھنے کے بعد شوال کی ایک تاریخ کو عید مناتے ہیں۔ عید الفطر کے دن نماز عید جامع مسجد یا عیدگاہ میں ادا کی جاتی ہے۔ عید کی نماز سے پہلے صدقہ فطر ادا کیا جاتا ہے۔
دنیا کے سبھی مذاہب کے لوگ اپنی اپنی روایت کے مطابق اپنے تہوار مناتے ہیں۔ ہم مسلمان سال میں دو تہوار مناتے ہیں۔دو عیدیں عیدالفطر اور عیدالاضحی۔ پورے ماہ روزے رکھ کر اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کر کے اور اللہ کی عبادت اور قرآن پاک کی تلاوت کر کے ہر مومن اپنے دل میں خوشی محسوس کرتا ہے – عیدالفطر کے پر مسرت موقع پر جو آپس میں کسی وجہ سے ناراض ہیں ان کو ایک دوسرے سے صلح کر لینی چاہیے – امیر ہو غریب ہو چھوٹا ہو بڑا ہو مرد ہو عورت ہو غرض ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق رمضان المبارک کے اختتام پر شان وشوکت سے عید الفطر مناتا ہے۔ لوگ گھروں کی چھت پر چڑھ جاتے ہیں کوئی کھلے میدان میں نکل پڑتا ہے کہ عید کا چاند نظرآجائے۔چاند کا بڑی بے صبری سے انتظار ہوتا ہے۔ اس رات چاند اتنا باریک ہوتا ہے کہ نظر آنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بچوں کے چہرے خوشی سے چمکنے لگتے ہیں۔۔۔وہ پھولے نہیں سماتے۔ بچے، بوڑھے، جوان، خواتین۔۔ہر کوئی تیاری میں مصروف ہو جاتا ہے۔  ہر ایک مسلمان کی زبان سے بے اختیار اللہ کی عظمت اور شان کے الفاظ جاری ہو جاتے ہیں  یعنی آہستہ آواز سے تکبیریں کہی جاتی ہے  یعنی اللہ اکبر اللہ اکبر، لا الہ الہ اللہ، واللہ اکبر، اللہ اکبر، واللہ الحمد ؛ تکبیر کہنے کا یہ سلسلہ نماز عید ادا کرنے تک چلتا ہے
۔صبح ہی صبح سب نہا دھو کر تیار ہوجاتے ہیں۔مرد حضرات عید کے نئے کپڑے پہن کر وقت مقررہ پر عید گاہ پہنچ جاتے ہیں۔ ہر کوئی عید گاہ میں ہی خوشی سے گلے مل کر عید کی مبارکباد پیش کر رہے ہوتے ہیں۔کوئی بھی ہو دوست،دشمن، امیر، غریب کا فرق نہیں،کیونکہ ہم سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔عیدالفطر کی نماز کے موقع پر خطبہ عید کے علاوہ  انسانیت کی بھلائی اور عالم اسلام کے لیے خصوصی دعائیں کی جاتی ہیں جس میں اللہ تعالٰی سے کوتاہیوں اور گناہوں کی معافی مانگی جاتی ہے۔ اللہ تعالٰی سے اس کی مدد اور رحمت مانگی جاتی ہے

موجودہ صورتحال میں ہم سب پوری دنیا کو یہ عید الفطر سادگی سے منانی چاہیے  اور پڑوسیوں یتیموں مسکین بیواؤں اور نادار لوگوں کا خیال رکھا جاے تاکہ یہ عیدالفطر کے موقعہ پر کوئی بھی گھر خالی نہ رہیں سب کا خیال رکھا جاے -اور ہم سب لوگوں کو عید الفطر جیسا دن نصیب ہوگا لیکن اس دن بھی ہم اپنے اعمال کو درست کرے تاکہ اس بابرکت دن بھی ہم ثواب کما سکے اپنی نمازیں تلاوت کلام پاک نہ چھوڑے-ایسا صدقہ کیا جاے کہ ایک ہاتھ سے صدقہ کرو دوسرے ہاتھ کو معلوم نہ ہوں -اور ضروری طور پر مسجدوں کے امام حضرات کا خیال رکھا جاے اور بلخصوص مدارس مساجد اور جو اسوقت NGO والے کام کر رہے ہیں ان سب کا بھی تعاون کریں تاکہ یہ حضرات بھی جلد از جلد مستحقین تک پہنچ پائے-

اسوقت جو حالات بنے ہوئے ہیں جن کے گھر میں عید کے لیے بھی کچھ نہیں ان لوگوں کا بھی خیال رکھا جاے تاکہ ہمیں اور پوری دنیا کو چاہیے کہ ہم  اللہ تعالی سے گڑگڑا کر دعا مانگے اور استغفر اللہ کی کثرت کرے نمازوں کا اہتمام کرے اور یہ دعا بھی مانگیں کہ یہ عید الفطر ہمارے لیے خوشی رحمت و برکت بن کر آے-

The writer Mir Osama, is a social activist and member of Babul Uloom Society, based in Srinagar.

Leave a Reply