Fri. Aug 14th, 2020

The RealKashmir News

"The Voice of Voiceless"

Ramzaan Ke Phool….

1 min read
Share this

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے   پور ی انسانیت کے لیے اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کی مکمل راہنمائی فراہم کرتاہے انسانی زندگی میں پیش   آنے والے تمام معاملات ، عقائد وعبادات ، اخلاق وعادات کے   لیے نبی ﷺ کی ذات مبارکہ اسوۂ حسنہ کی صورت میں موجود ہے ۔مسلمانانِ عالم کو اپنےمعاملات کو نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق سرانجام دینے چاہیے ۔لیکن موجود دور میں مسلمان رسم ورواج اور غلط کاموں  خرافات میں   گھیرے ہوئے ہیں لوگوں کی اکثریت دیگر احکام ومسائل سے دور جا رہی ہے ہم اپنے والدین کی عزت نہیں کرے بہن بھائیوں کی عزت نہیں کرتے اور رشتہ دار کی عزت اور میٹھے بول استعمال کرے اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ ودینی مسائل کی معرفت حاصل کرے تاکہ وہ اپنی عبادات اخلاقیات کوشریعت کے مطابق انجام دے سکے اور اگے ماہ رمضان المبارک آنے والا ہے ہم سب لوگ پوری دنیا مل کر اچھے سے رمضان المبارک بناے اور محبتیں بڑھاے اور رشتہ محبتوں سے بڑھتا ہیں- 
آج وقت ہے ہم اپنے جوان بھائیو اور بہنوں کی حفاظت کرے اور ہم لوگ ہر معلومات کا علم رکھے غلط کاموں اور لایعنی باتوں سے پرہیز کرے  مسلمانوں کے لئے اس پورے مہینے ميں روزے رکھنے فرض ہيں۔شب قدر بھی اسی مہینے میں واقع ہے۔ قرآن کے مطابق جس رات کى عبادت ہزار مہینوں کى عبادت سے بہتر ہے۔ اس مہینے کی اہم ترین عبادت‌ میں روزہ رکھنا، قرآن مجید کی تلاوت، شب قدر کی راتوں میں شب بیداری کرنا، دعا و استغفار، مؤمنین کو افطاری دینا اور فقیروں اور حاجتمندوں کی مدد کرنا شامل ہے۔بعض آیات کے مطابق قرآن کریم اسی مہینے میں نازل ہوا ہے۔  مگر رمضان کی شان ہی کچھ نرالی ہے کہ اس کے لیل و نہار اور شام و سحر میں اس کے دریائے رحمت میں کچھ اس قدر تموج پیدا ہوجاتا ہے کہ ان ساعتوں میں وہ ذات کریم اعمال صالحہ کے اجرو انعام میں اس طرح اضافہ فرماتا ہے کہ نفلی عبادت کا انعام فرائض کے برابر اور فرائض کا اجر ستر گنا تک بڑھادیتا ہے-پس ہمیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لئے اپنے دنیوی معاملات سے بے نیاز ہوکر رمضان کے اس مقدس ماہ میں رب کریم کے در اقدس پر ایک فقیر کی صورت حاضر ہوجائیں تاکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات اکرامات کے مستحق ٹھہر سکیں-                           پس اور اپنے پڑوسی کی فکر کی جاے اور حالات کے تدابیر پر عمل کیا جاے اور اعمال توبہ استغفر اللہ کی کثرت کی جاے اور نمازوں کا اہتمام جماعت کے ساتھ گھروں میں پڑھ لی جاے اپنے پڑوسی کا خیال رکھا جاے اور پوری دنیا کے لئے دعاؤں کا اہتمام کیا جاے –
میر اسامہ

The Writer Mir Usama is a social worker and member of Bab-ul-Uloom Educational Society, Kashmir.

Leave a Reply